درس گاہ

قسم کلام: اسم ظرف مکاں

معنی

١ - پڑھنے اور پڑھانے کی جگہ، مدرسہ تعلیم گاہ؛ سیکھنے کی جگہ؛ عبرت حاصل کرنے کا مقام۔ "نگار چالیس برسوں سے میرے لیے ایک فیض گاہ، درس گاہ رہا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، نیاز فتح شخصیت اور فکر و فن، ٢٧١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'درس' کے ساتھ فارسی اسم 'گاہ' بطور لاحقۂ ظرفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨١٠ء سے "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پڑھنے اور پڑھانے کی جگہ، مدرسہ تعلیم گاہ؛ سیکھنے کی جگہ؛ عبرت حاصل کرنے کا مقام۔ "نگار چالیس برسوں سے میرے لیے ایک فیض گاہ، درس گاہ رہا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، نیاز فتح شخصیت اور فکر و فن، ٢٧١ )

جنس: مؤنث